بحث وتحقیق

تفصیلات

چودہویں دوحہ بین المذاہب مکالمہ کانفرنس شروع

24 مئی 2022 کی صبح کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں چودہویں عالمی دوحہ انٹر فیتھ کانفرنس کا افتتاح ہوا جسکا عنوان " نفرت انگیز بیان بازی پریکٹس ، اور مختلف مذاہب کی دینی تعلیمات کے درمیان " جس میں دنیا کے ستر ممالک سے تین سو علماء، دینی قائدین، ریسرچ اسکالرس، تعلیمی ماہرین، میڈیا کے لوگ اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے متعدد لوگ شریک ہوئے جن میں سرفہرست علماء کی عالمی تنظیم " انٹر نیشنل یونین فار اسلامک اسکالرس " کے جنرل سیکریٹری شیخ ڈاکٹر علی محیی الدین القرہ داغی اور اس اتحاد کے متعدد ذمہ داران شریک ہوئے 
یونین کے سیکرٹری نے اس کانفرنس میں کی گئی اپنی تقریر میں دنیا کو پیش آمدہ موجودہ مسائل اور چیلنجوں پر اپنے اصولوں اور اپنی ایمانی بنیادوں سے دستبردار ہوئے بغیر ایک واضح موقف اپنانے کی طرف اشارہ کیا مزید انھوں نے رواداری، محبت، بقائے باہمی، نفرت، معصوم برئ، اور غیر جارحیت پسندوں کے خلاف جارحیت کو اسلام کے اصولوں کی طرف دعوت دیتے وقت شدت کے ساتھ مسترد کرنیکی بات کہی 
انھوں نے کہا کہ ہماری یہ دنیا اسوقت مختلف دینی، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی سطحوں پر جن بڑی مشکلات کا شکار ہے اسکا بنیادی سبب ہماری زندگیوں میں دین کی صحیح اقدار، اخلاقیات اور اسکے قوانین کی سمجھ اور پابندی کا نہ ہونا ہے 
آنجناب نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ  مسلمانوں، نصرانیوں، یہودیوں اور دنیا کے دوسرے لوگوں کو درست راستے پر لانے کی ذمہ داری انکے علماء پادریوں اور خاخاموں اور مذہبی قائدین کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے جن کا رواداری اور محبت کی طرف دعوت دینے اور نسل پرستی اور فرقہ واریت کو ترک کرنے پر ابھارنے میں بڑا کردار ہے 
یہ کانفرنس جسکو " دوحہ بین الاقوامی مرکز برائے مکالمہ بین المذاہب " دو دن کے لئے منعقد کررہا ہے بنیادی طور پر تین محوروں اور موضوعات پر بحث و مباحثہ کریگی 
پہلا محور " نفرت انگیز بیان بازی ، اسکا مفھوم اور اسکے اسباب ومحرکات " پربحث کریگا کیونکہ اس محور اور موضوع کا مقصد شدت پسند دینی بیان بازی ، نفرت انگیزی پھیلانے میں اسکے کردار ، دین کی غلط سمجھ اور معتدل مذہبی خطاب کی شکلوں کو مضبوط کرنے کے طریقوں پر غور کرنا ہے مزید بعض مذہبی اور سیاسی قیادتوں کی طرف سے انتہا پسندانہ بیان بازیوں کے عروج اور پھیلاو اور عالمی امن کے حصول پر اسکے منفی اور نقصان دہ اثرات سے متعلق بات چیت کرنا اور جائزہ لینا ہے 
دوسرا محور اور موضوع جس کا عنوان " نفرت انگیزی کی شکلیں اور طریقہ کار " ہے یہ نفرت انگیز بیان بازی ، تشدد اور دہشت گردی پر ابھارنے اور اسکے سیاسی استعمال اور پرامن بقائے باہمی پر اسکے منفی اثرات اور مذموم نسل پرستی کو پھیلانے میں اسکے کردار اور خاص طور پر پناہ گزینوں، مذہبی اقلیتوں، اور عورتوں اسکے نقصان دہ اثرات کا جائزہ لے گا 
جہاں تک تیسرے محور کا تعلق ہے تو وہ " نفرت انگیز بیان بازی کا مقابلہ کرنے کے لئے مطلوبہ کردار " سے متعلق ہے جو کہ دینی مذہبی میڈیا کے اداروں اور لیڈر شپ کے نفرت انگیز بیان بازی کا مقابلہ کرنے کے لئے انکے مطلوبہ کردار کو واضح کرتا ہے اور دینی علماء اور عبادت گاہوں کی مختلف مذاہب کے احترام سے متعلق بیداری پیدا کرنے سے متعلق انکی ذمہ داریوں اور نفرت انگیز بیان بازی کو کنٹرول کرنے میں میڈیا کے کردار اور اسکے اثرات پر بحث کررہا ہے


: ٹیگز



السابق
سلواڈار راموس: امریکہ میں سکول کے 19 بچوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والا حملہ آور کے بارے میں کیا معلوم ہے؟

متعلقہ موضوعات

بحث وتحقیق

تازه ترين ٹویٹس

تازہ ترین پوسٹس

اتحاد کی شاخیں