اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے زیر اہتمام کل جُمعہ کو غزہ کی پٹی میں دفاع القدس اور نصرت مسجد اقصیٰ مارچ کا اہتمام کیا گیا۔ اس جلوس میں ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں نے شرکت کی۔ جلوس میں شریک ہزاروں نوجوانوں نے غرب اردن اور بیت المقدس میں جاری اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف اور فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں نعرے لگائے۔
یہ مارچ نماز جمعہ کے بعد غزہ شہر کے وسط میں واقع فلسطین اسکوائر کی طرف براہ راست شروع ہوا جس میں ایک بڑے ہجوم اور قومی اور اسلامی دھڑوں اور فورسزکے نمائندوں نے شرکت کی۔
تحریک کے رہ نما ماہر صبرا نے کہا کہ آج ہم یہاں غزہ میں القدس اور الاقصیٰ، اپنے قبلہ اول، اپنے مقصد اور اپنے عظیم نصب العین کے لیے، فلسطین، تمام فلسطینی سرزمین، الاقصیٰ اور القدس کے لیے کھڑے ہیں۔ "
صبرہ نےجلوس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قابض دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقت اور جبر کے ذریعے الاقصیٰ کو ہم سے چھین لے گااور فلسطینی قوم کے دلوں سے قبلہ اول سے محبت ختم کردے گا، یہ دشمن کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت فلسطینی قوم اور مسلم امہ کو القدس اور الاقصیٰ سے محروم نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ "ہم آج مجرم دشمن کو یہ بتانے کے لیے کھڑے ہیں کہ القدس ایک سرخ لکیر ہے اور یہ کہ الاقصیٰ نہ صرف فلسطین کی سرزمین بلکہ یہ پوری مسلم امہ کے لیے حساس مقام ہے۔ اسے نقصان پہنچا تو پوری دنیا میں جنگ میں لگ سکتی ہے۔
صبرہ نے مزید کہا: "ہم مجرم قابض دشمن سے کہتے ہیں جو ہر روز مسجد اقصیٰ میں آباد کاروں کی دراندازی کے ساتھ اپنے جرائم کو جاری رکھے ہوئے ہے کہ یہ مسجد ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کی توجہ کا مرکز ہے، اور ہم فلسطینی عوام اس کے دفاع میں پیش پیش ہے۔"
انہوں نے دشمن کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ "اے مجرم دشمن، تم نے اپنے گزشتہ انتخابات میں بدترین انتہا پسندوں اور انسانیت کے دشمنوں کو سامنے لایا۔ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہمارے لوگ بھی پاکیزہ ہیروز اور آزاد لوگوں کے ساتھ نکلیں گے جو ہمارے مقدسات کی حفاظت کرتے ہیں۔ "
صبرا نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی قوم القدس ،الاقصیٰ اور فلسطین کے ہر ذررے میں اپنے حق، ایمان اور پختہ حق پر مضبوط ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین محفوظ ہیں