عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، دینی اصولوں کی پابندی، اعتدال اور اہلِ بیتِ رسول و صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دونوں کی یکساں محبت، تعظیم اور توقیر کی دعوت دیتا ہے، اور اہلِ بیت یا صحابۂ کرام میں سے کسی کی شان میں گستاخی اور تنقیص کو گمراہی اور امت کے لیے ایک خطرناک فتنہ قرار دیتا ہے۔
اتحاد امتِ مسلمہ کی موجودہ صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ آج امت شدید اختلاف، تفرقہ اور زوال کا شکار ہے۔ اس کے متعدد اسباب ہیں۔ ان میں بعض بیرونی ہیں جن سے سب واقف ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک اندرونی اسباب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے امت پر آنے والی بہت سی مصیبتوں کی اصل وجہ انہی داخلی کمزوریوں کو قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾
“کیا جب تم پر ایک مصیبت آئی، حالانکہ تم اس سے دوگنی مصیبت دشمن پر ڈال چکے تھے، تو تم نے کہا: یہ کہاں سے آگئی؟ کہہ دیجیے: یہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔” (سورۂ آل عمران: 165)
ان اندرونی اسباب میں وہ گمراہ کن فتوے اور انتہا پسندانہ رجحانات بھی شامل ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو باہم تقسیم کیا، معمولی شبہات اور بے بنیاد لوازم کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر کی، اور بعض مسلح گروہوں نے اصلاح کے نام پر مسلمانوں کا خون بہایا اور ان کے گھروں کو تباہ کیا، حالانکہ وہ حقیقت میں اصلاح کرنے والے نہ تھے۔
اگرچہ ان میں سے بیشتر انتہا پسند تحریکیں اور جماعتیں ناکام ہو چکی ہیں اور ان کی حقیقت بھی آشکارا ہو چکی ہے، لیکن انہوں نے اسلام کی ایسی مسخ شدہ تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جس نے اسلام کے خلاف محاذ آرائی کرنے والوں کو مضبوط جواز فراہم کیا، حتیٰ کہ اسلام کی اس حقیقی، معتدل اور حسین تعلیم کو بھی نقصان پہنچایا جو سراسر “تمام جہانوں کے لیے رحمت”، ہدایت، نصیحت، حکمت اور عدل و انصاف کا پیغام ہے۔
آج ایک اور نہایت خطرناک فتنہ سر اٹھا رہا ہے۔ ایک طرف “رافضیت” ہے جو صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرتی ہے، تو اس کے ردِعمل میں دوسری جانب “ناصبیت” کا رجحان فروغ پا رہا ہے، جس کے تحت رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت کی عظمت کو گھٹانے اور ان کے مقام و مرتبہ کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ رویہ صرف موجودہ اہلِ بیت تک محدود نہیں بلکہ ان اولین اہلِ بیت اطہار تک پہنچ گیا ہے جن کی فضیلت پر اہلِ ایمان کا اجماع ہے، مثلاً امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم، جو جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔
اسی طرح رافضیت کی انتہا یہ ہے کہ وہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان ذوالنورین اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی شان میں گستاخی کرتی ہے۔
مزید خطرناک بات یہ ہے کہ جدید نواصب اہلِ بیتِ کرام کے فضائل میں وارد صحیح احادیث کو، خصوصاً انہی احادیث کو، کمزور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خواہ وہ صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں موجود ہوں یا ائمۂ حدیث نے انہیں صحیح قرار دیا ہو، حالانکہ ان احادیث پر کوئی عملی شرعی حکم بھی موقوف نہیں۔
اسی مناسبت سے عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز اعلان کرتا ہے کہ اس کا موقف وہی ہے جو اہلِ سنت والجماعت کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے؛ یعنی “ناصبیت” اور “رافضیت ” دونوں سے براءت۔ دونوں باطل ہیں اور اسلام کے صحیح منہج کے خلاف ہیں۔
ہم رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیتِ سے محبت اور ان کی تعظیم کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں، اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت اور ان کی توقیر کو بھی ایمان کا لازمی تقاضا مانتے ہیں۔ ہم سب کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے ہیں،بعض اختلافی معاملات ان کے لیے بہترین تاویلات اختیار کرتے ہیں، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں:
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾
“اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رہنے دے۔ اے ہمارے رب! بے شک تو نہایت شفقت کرنے والا، بڑا رحم فرمانے والا ہے۔” (سورۂ حشر: 10)
اس موقع پر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت زندہ ہوں یا وفات پا چکے ہوں، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کا ہی تسلسل ہیں۔ ان کی شرافت، فضیلت اور ان سے متعلق شرعی احکام قیامت تک برقرار رہیں گے۔
حضرات اہلِ بیت کے فضائل میں متعدد صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں، اسی لیے اہلِ سنت والجماعت ان کے حق، مقام اور فضیلت کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
“اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و پاکیزہ بنا دے۔” (سورۂ الأحزاب: 33)
حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
«فِي بَيْتِي نَزَلَتْ: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ﴾، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ، فَقَالَ: هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي»
“یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا: ‘یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔'”
(مستدرک حاکم: 4764، مسند احمد: 26508، سنن کبریٰ نسائی: 10088، المعجم الکبیر للطبرانی: 627)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں فرمایا:
«إسناده جيد»
“اس کی سند عمدہ ہے۔”
اسی طرح اہلِ بیت کے فضائل میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے:
«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
“حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔”
(مسند احمد: 10999، جامع ترمذی: 3768، اور دیگر کتب حدیث)
حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
«لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ»
“تم سے صرف مومن محبت کرے گا، اور تم سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔”
(مسند احمد، جامع ترمذی، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
حضرات اہلِ بیت کے فضائل میں اس کے علاوہ بھی بے شمار صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں، خصوصاً سیدنا حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے بارے میں۔
اس سلسلے میں اہلِ سنت والجماعت کے مشہور محدث امام ابو بکر آجری رحمہ اللہ (متوفی 360ھ) کی کتاب “الشريعة” نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اہلِ بیت کے فضائل پر مستقل ابواب قائم کیے اور متعدد صحیح احادیث نقل کرنے کے بعد فرمایا:“میں نے امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے جو فضائل مجھے یاد تھے، ان کا ذکر کیا، حالانکہ ان کے فضائل اس سے کہیں زیادہ عظیم اور وسیع ہیں۔ اب میں مجموعی طور پر اہلِ بیت کے فضائل بیان کرتا ہوں، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے، اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ مباہلہ کے موقع پر انہیں ساتھ لائیں۔”
پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت کیا:﴿قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ﴾
“آپ کہہ دیجیے: آؤ، ہم اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، ہم اپنی جانوں کو اور تم اپنی جانوں کو بلا لیں، پھر عاجزی کے ساتھ دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت مانگیں۔” (سورۂ آل عمران: 61)
امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم مراد ہیں۔
پھر دوبارہ آیتِ تطہیر کا ذکر کیا:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
اور رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا:
«كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ وَصِهْرٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي وَصِهْرِي»
“قیامت کے دن ہر رشتہ، نسب اور سسرالی تعلق منقطع ہو جائے گا، سوائے میرے تعلق، میرے نسب اور میرے سسرالی رشتے کے۔”
(سنن ابی داؤد، صحیح ابن خزیمہ، معجم طبرانی)
حافظ بدر الدین عینی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«طريقه صحيح»
“اس حدیث کی سند صحیح ہے۔”
امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“ان اہلِ بیت میں حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہم، حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی تمام اولاد، حضرت حسن و حسین کی تمام نسل، ان کی مبارک ذریت، اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سب شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔”
(کتاب الشريعة، 5/2200)
صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم کے فضائل
ائمۂ حدیث اور فقہ، مثلاً امام بخاری، امام مسلم، امام احمد اور سنن و مسانید کے دیگر مصنفین نے اہلِ بیت اطہار کے فضائل کو بڑی اہتمام کے ساتھ اپنی کتابوں میں جمع کیا ہے، خصوصاً سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کے مناقب کو مستقل ابواب میں ذکر کیا ہے۔
مثلاً امام بخاری رحمہ اللہ نے “باب مناقب علی بن أبی طالب” قائم کیا اور اس میں متعدد احادیث روایت کیں، پھر “باب مناقب جعفر بن أبی طالب”، اس کے بعد “باب مناقب قرابة رسول الله ﷺ ومنقبة فاطمة”، اور پھر “باب مناقب الحسن والحسين” قائم کیا۔ اسی طرح دیگر ائمۂ حدیث نے بھی اہلِ بیت کے فضائل کو اپنی تصانیف میں نمایاں مقام دیا ہے۔
صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم کے فضائل میں قرآنی آیات
صحابۂ کرام اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کے فضائل قرآن و سنت میں اس قدر کثرت سے مذکور ہیں کہ ان کا احاطہ ایک مختصر بیان میں ممکن نہیں۔ بطورِ مثال چند آیات درج ذیل ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَنَصَرُوا أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾
“اور جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی، اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اور جنہوں نے (مہاجرین کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی، وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔”
(سورۂ انفال: 74)
2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾
“جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کے نزدیک ان کا درجہ بہت بلند ہے، اور وہی حقیقی کامیاب ہیں۔”
(سورۂ توبہ: 20)
3۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لَٰكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
“لیکن رسول اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ایمان لائے، انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا۔ تمام بھلائیاں انہی کے لیے ہیں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔”
(سورۂ توبہ: 88)
4۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ… وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾
“محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے مقابلے میں نہایت مضبوط اور آپس میں بے حد رحم دل ہیں۔ تم انہیں رکوع و سجدے میں دیکھو گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔ ان کی پیشانیوں پر سجدوں کے آثار نمایاں ہیں… اللہ نے ان میں سے ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے مغفرت اور عظیم اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔”
(سورۂ فتح: 29)
صحابۂ کرام کے فضائل میں احادیثِ نبویہ
رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و فضیلت کو بھی متعدد صحیح احادیث میں بیان فرمایا، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا:«أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»
“لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “میرا زمانہ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔”
(صحیح بخاری: 3651، صحیح مسلم: 2533)
اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»
“میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس لیے کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، تو وہ ان کے ایک مُد بلکہ نصف مُد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔”
(صحیح بخاری: 3673، صحیح مسلم: 2541)
امہات المؤمنین کے فضائل
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں “امہات المؤمنین” کا شرف عطا فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾
“نبی ایمان والوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں، اور آپ کی ازواج ان کی مائیں ہیں۔”
(سورۂ احزاب: 6)
اسی طرح فرمایا:
﴿يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ﴾
“اے نبی کی بیویو! اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔”
(سورۂ احزاب: 32)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ، خصوصاً اس کے اولین طبقے، کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾
“تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔”
(سورۂ آل عمران: 110)
لہٰذا اہلِ سنت والجماعت، خواہ وہ فقہاء ہوں یا محدثین، علماء ہوں یا عوام، سب کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ صحابۂ کرام، ازواجِ مطہرات اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اجمعین سب کی محبت، تعظیم اور توقیر ایمان کا حصہ ہے۔ نہ وہ غلو کرنے والوں کی مبالغہ آرائی سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ ہی گستاخی کرنے والوں کی بے راہ روی سے۔ ان کے نزدیک حق وہی ہے جس پر قرآن و سنت اور سلفِ صالحین کا اجماع ہے۔
اسی بنا پر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز درج ذیل امور کو اہمیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے اور اہل حق کو ان کی تلقین کرتا ہے :
1۔ جدید نواصبِ اور جدید روافض دونوں کی مذمت
اتحاد ان نئے رجحان کی سختی سے مذمت کرتا ہے جس کے تحت بعض لوگ حضرات اہلِ بیت سے نفرت پھیلاتے ہیں یا ان کی شان و منزلت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جسے “نواصبِ جدید” کا نام دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح اتحاد اس ہر قول، رائے اور مذہبی رجحان کو بھی قطعی طور پر مسترد کرتا ہے جو صحابۂ کرام یا ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرے، انہیں برا بھلا کہے یا ان کے مقام کو کم کرنے کی کوشش کرے۔
یہ دونوں رویے شرعاً حرام، امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے اور اہلِ سنت والجماعت کے منہج کے سراسر خلاف ہیں۔
اگر اہلِ بیت سے نسبت رکھنے والے بعض افراد یا ان کے نام پر چلنے والے بعض لوگوں سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اس کی بنیاد پر ان بزرگ ہستیوں، جو اپنے فضل و تقویٰ میں ممتاز اور امت کے لیے نمونہ ہیں، پر کوئی حرف نہیں آتا۔
2۔ خلافتِ راشدہ اور اہلِ بیت کے بارے میں اہلِ سنت کا عقیدہ
اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ خلافتِ راشدہ علیٰ منہاجِ نبوت سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم پر مشتمل ہے۔
اسی خلافتِ راشدہ کی تکمیل حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ان چند ماہ سے ہوئی جن میں آپ مسلمانوں کے خلیفہ رہے، پھر امت کے اتحاد اور مسلمانوں کے خون کو محفوظ رکھنے کے لیے خلافت سے دستبردار ہوگئے۔
اہلِ سنت اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب نواسے، عظیم امام اور جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ آپ نے خلافتِ راشدہ کی تجدید کی کوشش فرمائی، لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی۔
آپ کو ظلم کے ساتھ شہید کیا گیا، اور آپ کا قتل اسلام کی تاریخ کا ایک نہایت عظیم جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾
ترجمہ:
“اور جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضب ناک ہوگا، اس پر لعنت فرمائے گا، اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔”
(سورۂ نساء: 93)
اسی لیے امام حسین رضی اللہ عنہ اہلِ سنت والجماعت کے دلوں میں نہایت بلند مقام رکھتے ہیں۔ ان سے محبت باعثِ قربِ الٰہی ہے، لیکن اس محبت میں نہ غلو کیا جاتا ہے اور نہ افراط و تفریط۔
اسی طرح اہلِ سنت خلفائے راشدین، عشرۂ مبشرہ، حضرت حسن و حسین، ان کی والدہ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہم، جو تمام جہان کی عورتوں کی سردار ہیں، اور تمام امہات المؤمنین کے جنتی ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔
3۔ علمِ حدیث میں تخصص کا احترام
اتحاد اس بات پر زور دیتا ہے کہ علمِ حدیث ایک دقیق اور تخصصی فن ہے، لہٰذا کسی صحیح اور ثابت شدہ حدیث کو محض ذاتی رجحان کی بنیاد پر ضعیف قرار دینا جائز نہیں۔
صرف وہی محدثین، جو اصولِ حدیث کے ماہر ہوں، کسی روایت کے بارے میں علمی فیصلہ دے سکتے ہیں۔ خصوصاً وہ احادیث جنہیں صحیح اسناد کے ساتھ امت نے قبول کیا ہے، ان سے اعراض یا انہیں رد کرنا درست نہیں۔
4۔ امت کے اتحاد کی ضرورت
آج امتِ مسلمہ شدید آزمائشوں، داخلی اختلافات اور بیرونی چیلنجز سے دوچار ہے۔ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ امت کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، اختلافات کو کم کیا جائے اور امت کے اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنایا جائے۔
لہٰذا اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مسلمانوں کے درمیان مصالحت، باہمی ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ امت ان وجودی خطرات کا مقابلہ کر سکے جن سے وہ آج دوچار ہے۔
5۔ اہلِ سنت والجماعت کا معتدل منہج
اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ:
اہلِ بیتِ اطہار سے محبت واجب ہے، لیکن اس میں غلو یا تقصیر نہیں ہونی چاہیے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت اور ان کی توقیر بھی ایمان کا حصہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی شخصیت معصوم نہیں، کیونکہ عصمت صرف اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرتے ہیں :
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾
ترجمہ:
“اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کسی قسم کا کینہ نہ رہنے دے۔ اے ہمارے رب! بے شک تو نہایت مہربان، بڑا رحم فرمانے والا ہے۔”
(سورۂ حشر: 10)
10 محرم 1448ھ / 26 جون 2026ء
