تازہ ترین خبریں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ پر، آپ کے تمام انبیاء و رسل بھائیوں پر، آپ کی آل، آپ کے صحابۂ کرام اور ان تمام لوگوں پر جو قیامت تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کریں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی چھٹی مدت کے دوران مجلسِ عاملہ کا ساتواں اجلاس بروز ہفتہ، 12 محرم 1448ھ، مطابق 27 جون 2026ء منعقد ہوا۔

اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس کے بعد محترم شیخ ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی، صدرِ عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز، نے افتتاحی خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ نازک حالات میں علماء کی ذمہ داری، حق بات کو واضح کرنے کی اہمیت، امت کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے، ظلم و جارحیت کا مقابلہ کرنے، اور عدل، اعتدال اور رحمت جیسی اسلامی اقدار کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

اس کے بعد مجلس نے صدرِ اتحاد، جنرل سیکرٹریٹ، مختلف کمیٹیوں اور اتحاد کی علاقائی شاخوں کی کارکردگی رپورٹس کا جائزہ لیا، اور ادارہ جاتی نظام کی ترقی، نیز علمی، فکری اور دعوتی منصوبوں کی کامیاب تکمیل پر اطمینان اور تحسین کا اظہار کیا۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد مجلس نے درج ذیل امور کی توثیق کی:

اوّل: علماء کی ذمہ داری اور امت کا اتحاد

مجلس اس بات پر زور دیتی ہے کہ موجودہ حالات امت کے علماء اور علمی و دعوتی اداروں سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ حق کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کریں، عوامی دینی خطاب کو اعتدال اور بصیرت کے ساتھ منظم کریں، امت کو اتحاد و اتفاق کی طرف بلائیں، تعصب، فرقہ واریت اور ایک دوسرے پر غداری کے الزامات کی فضا کو ختم کریں، اور جماعتی، گروہی اور سیاسی مفادات پر امت کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔

اسی طرح علماء کو چاہیے کہ امت کو درپیش مشترکہ خطرات اور چیلنجز کے مقابلے کے لیے ایک متحد اسلامی موقف تشکیل دینے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

دوم: “المسرى والأسرى” کا سال اور فلسطین کا مسئلہ

مجلس نے اعلان کیا ہے کہ سال 1448ھ کو “المسرى والأسرى” (مسجدِ اقصیٰ اور قیدیوں کا سال) قرار دیا جاتا ہے، تاکہ مسجدِ اقصیٰ اور فلسطین کے مسئلے کی مرکزی حیثیت اجاگر رہے، اور صہیونی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران اور تمام مظلوم قیدیوں کا مسئلہ امت کی اجتماعی یادداشت، علماء کی دعوت اور اسلامی اداروں کی سرگرمیوں کا مستقل حصہ بنا رہے۔

مجلس عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز، اس کی تمام کمیٹیوں، شاخوں اور اراکین سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مسجدِ اقصیٰ کی دینی اور تاریخی حیثیت کو اجاگر کرنے، اہلِ بیت المقدس کے صبر و استقامت کی حمایت کرنے، فلسطینی قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی نصرت کرنے، اور ان پر ڈھائے جانے والے تشدد، غیر انسانی سلوک اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے علمی، دعوتی، ابلاغی اور حقوقی پروگرام شروع کریں۔

فلسطین، غزہ اور اسیران کے بارے میں

مجلس ایک بار پھر غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی، بھوک کے ذریعے تباہی، جبری بے دخلی اور وسیع پیمانے پر تخریب کاری کی شدید مذمت کرتی ہے۔ اسی طرح مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں جاری مسلسل صہیونی جارحیت کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

مجلس مطالبہ کرتی ہے کہ:

فوری اور مکمل جنگ بندی کی جائے۔

تمام سرحدی راستے (گزرگاہیں) فوری طور پر کھولے جائیں۔

انسانی امداد بلا رکاوٹ غزہ پہنچائی جائے۔

غزہ کی تعمیرِ نو کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے۔

جنگی جرائم کے ذمہ دار افراد کا احتساب کیا جائے۔

مجلس اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ فلسطینی عوام کو آزادی، اپنے وطن میں واپسی، حقِ خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست قائم کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، جس کا دارالحکومت قدسِ شریف ہو۔

اسی طرح مجلس فلسطینی مسئلے کو ختم کرنے، فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے یا دوسری جگہ آباد کرنے کی تمام سازشوں کو مسترد کرتی ہے، اور اس بات کا بھی دوبارہ اعلان کرتی ہے کہ صہیونی ریاست کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کی معمول پر آوری (تطبیع) شرعاً ناجائز ہے۔

عالمی اتحاد ان تمام ممالک اور اداروں کے موقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جنہوں نے صہیونی قابض ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے دباؤ کو قبول نہیں کیا۔

اسیران، قیدیوں اور مظلوم افراد کے بارے میں

اتحاد اس بات پر زور دیتا ہے کہ اسلامی دنیا کے مختلف ممالک میں ظلم و ناانصافی کے تحت قید کیے گئے اسیران، جبری طور پر لاپتا کیے گئے افراد اور ہر قسم کے مظلوم و بے بس انسانوں کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک شرعی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے، جسے امت کے اجتماعی شعور سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔

اتحاد علماء، داعیانِ دین اور خطباء سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے خطبات، دروس، بیانات اور دعاؤں میں قیدیوں کی مظلومیت کو زندہ رکھیں، اور امت کو یہ احساس دلاتے رہیں کہ ان کی مدد کرنا اور ان پر ہونے والے ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کرنا امت کی دینی ذمہ داری ہے۔

اسی طرح اتحاد متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ:

تمام ناجائز اور من مانی گرفتاریاں ختم کی جائیں۔

تمام قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

ان کی عزت و وقار اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

انہیں اپنے اہلِ خانہ سے رابطے کا حق دیا جائے۔

اور انصاف پر مبنی شفاف عدالتی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

اتحاد حکومتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور رفاہی اداروں سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ اسیران کی رہائی اور ان کے اہلِ خانہ کی مشکلات کے خاتمے کے لیے مؤثر اور سنجیدہ کوششیں کریں۔ یہی اسلامی اخوت کا تقاضا اور ہر مظلوم کے حق میں شرعی و انسانی فریضہ ہے۔

مجلس اس بات کی بھی توثیق کرتی ہے کہ جو لوگ جبراً اپنے وطنوں سے بے دخل کیے گئے ہیں، انہیں اپنے گھروں میں واپس لوٹنے کا مکمل حق حاصل ہے، اور ان کی واپسی میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جانی چاہئیں۔


سوم: علاقائی کشیدگی اور خطے کا امن

مجلس نے خطے میں حالیہ خطرناک فوجی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچا، اور پورے خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہوئے۔

مجلس تمام فریقوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ:

فوری اور مکمل جنگ بندی پر عمل کیا جائے۔

ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو دوبارہ جنگ بھڑکنے یا اس کے دائرے کو وسیع کرنے کا سبب بن سکتے ہوں۔

مجلس اس بات پر زور دیتی ہے کہ اختلافات کا بہترین حل صرف سنجیدہ مذاکرات اور تعمیری مکالمہ ہے، جو ریاستوں کی خودمختاری، ان کی سرزمین کے احترام اور بین الاقوامی اصولوں کی بنیاد پر ہو۔

مجلس دولتِ قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان سمیت ان تمام ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہتی ہے جو جنگ کے خاتمے، مختلف فریقوں کے درمیان اعتماد سازی اور مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

اسی طرح مجلس عالمی برادری اور علاقائی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ان سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کریں اور ان کی کامیابی کے لیے ضروری ضمانتیں فراہم کریں۔

مزید برآں، مجلس لبنان اور شام کے خلاف جاری صہیونی جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے امن و استحکام کا مکمل احترام کیا جائے تاکہ مزید جنگوں اور تباہی سے بچا جا سکے۔

چہارم: سوڈان

مجلس سوڈان کے بیشتر علاقوں میں سرکاری اداروں کی دوبارہ فعالیت اور معمول کے مطابق کام شروع ہونے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ اسی طرح وہ ان کوششوں کو بھی سراہتی ہے جو شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی اور ملک کی تعمیرِ نو کے لیے کی جا رہی ہیں۔

عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز سوڈان کی قانونی حکومت اور ریاستی اداروں کی اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتا ہے، اور اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ وہ سوڈان کی وحدت، خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

مجلس ایک مرتبہ پھر ان جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کرتی ہے جو باغی مسلح گروہوں نے عام شہریوں کے خلاف کی ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ مجلس مطالبہ کرتی ہے کہ یہ کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں، خانہ جنگی کا خاتمہ کیا جائے، بیرونی مداخلتوں کو روکا جائے، اور عرب، اسلامی اور بین الاقوامی سطح پر امدادی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ متاثرین تک انسانی امداد بروقت پہنچ سکے اور سوڈان کی علاقائی وحدت محفوظ رہے۔


پنجم: یمن، صومالیہ اور دیگر تنازع زدہ علاقے

مجلس یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر زور دیتی ہے، اور مطالبہ کرتی ہے کہ یمنی عوام کی طویل مصیبتوں کا خاتمہ کیا جائے۔ وہ تمام کوششیں قابلِ حمایت ہیں جو ایک ایسے جامع سیاسی حل کی طرف لے جائیں جو یمن میں امن و استحکام قائم کرے۔

اسی طرح مجلس صومالیہ کی سرزمین، عوام، آزادی اور خودمختاری کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے، اور ملک کو تقسیم کرنے یا اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کی ہر کوشش کو مسترد کرتی ہے۔

مجلس اس منصوبے کی بھی مذمت کرتی ہے جس کے ذریعے نام نہاد “صومالی لینڈ” کے حوالے سے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے (تطبیع) کی کوشش کی جا رہی ہے۔


ششم: مسلم اقلیتیں اور اسلاموفوبیا

مجلس دنیا کے مختلف ممالک میں مسلم اقلیتوں کے خلاف ہونے والے ظلم، امتیازی سلوک، مذہبی آزادیوں پر پابندیوں اور اسلامی اداروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی شدید مذمت کرتی ہے، خصوصاً:

روہنگیا کے مسلمان،

مشرقی ترکستان (سنکیانگ) کے مسلمان،

کشمیر کے مسلمان،

بھارت کے مسلمان،

اور دیگر علاقوں میں رہنے والی مسلم اقلیتیں۔

مجلس اسلام دشمنی (اسلاموفوبیا) اور نفرت انگیز بیانیے میں مسلسل اضافے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے، خصوصاً مغربی ممالک میں اعتدال پسند اسلامی اداروں کو نشانہ بنانے کے رجحان پر۔

اتحاد مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے بین الاقوامی قوانین وضع کیے جائیں جو مذہبی اور نسلی منافرت پر اکسانے کو جرم قرار دیں، اور ہر انسان کے مذہبی آزادی، عبادت اور جائز سماجی و شہری سرگرمیوں کے حق کا تحفظ کریں۔

اسی تناظر میں اتحاد ان غیر مسلم ممالک کی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں کو بھی سراہتا ہے جو نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک اور نسل پرستی کے خلاف مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔


ہفتم: خاندان کا تحفظ اور اسلامی شناخت

مجلس تمام اسلامی ممالک اور اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ:

خاندانی نظام کا تحفظ کریں،

اسلامی تشخص اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیں،

تعلیمی نصاب کی اصلاح اور بہتری پر توجہ دیں،

اور نوجوانوں کے سامنے ایسا متوازن اور مدلل دینی و فکری بیانیہ پیش کریں جو انہیں الحاد، انتہاپسندی، اخلاقی بے راہ روی اور میڈیا و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پھیلائے جانے والے گمراہ کن افکار سے محفوظ رکھ سکے۔

اسی طرح مجلس اس امر پر زور دیتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو انسانیت کی خدمت، انسانی وقار، نجی زندگی کے تحفظ اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ جھوٹی خبروں، نفرت انگیزی اور تباہ کن مواد کے پھیلاؤ کے لیے۔

ہشتم: عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی فعالیت کو مزید مؤثر بنانا

مجلس، عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز کی قیادت، جنرل سیکرٹریٹ، مختلف کمیٹیوں اور علاقائی شاخوں پر زور دیتی ہے کہ وہ اتحاد کے اسٹریٹجک منصوبے پر مسلسل عمل درآمد جاری رکھیں، اس کی نگرانی اور جائزے کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں، اور اپنی سرگرمیوں میں علمی، تعلیمی اور تربیتی منصوبوں کو اولین ترجیح دیں۔

اسی طرح علماء اور نوجوان نسل کی فکری و علمی تربیت، دعوتی صلاحیتوں کی نشوونما، اور اتحاد کی ابلاغی و میڈیا سرگرمیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

اختتامی پیغام

مجلس، جبکہ یہ اجلاس نئے ہجری سال 1448ھ کے آغاز میں منعقد ہو رہا ہے، پوری امتِ مسلمہ کو دعوت دیتی ہے کہ وہ ہجرتِ نبوی سے ایمان، ایثار، قربانی، منصوبہ بندی، اتحاد اور قوتِ امت کے وہ عظیم اسباق حاصل کرے جنہوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا تھا۔

آج کے چیلنجز کو مایوسی کا سبب بنانے کے بجائے انہیں امت کی تعمیر، بیداری اور نشاۃِ ثانیہ کا ذریعہ بنایا جائے۔

اسی طرح عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز تمام علماءِ امت، خصوصاً اتحاد کے اراکین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنی دینی ذمہ داری پوری کریں، امت کی اصلاح، رہنمائی اور بیداری میں بھرپور کردار ادا کریں، تاکہ وہ اس منصب کی حق دار بن سکے جس کی گواہی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دی ہے:

﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾

ترجمہ: “تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔”

(سورۂ آل عمران: 110)

آخر میں مجلس بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہے:

اے اللہ! امتِ مسلمہ کو متحد فرما، اس کے ممالک کی حفاظت فرما، مسلمانوں کے خون کو محفوظ فرما، مظلوموں کی مدد فرما، مصیبت زدہ لوگوں کی پریشانیاں دور فرما، تمام اسیران کو رہائی عطا فرما، مسجدِ اقصیٰ المبارک کو آزادی نصیب فرما، اور فلسطین، سوڈان، شام، یمن، لبنان اور تمام مسلم ممالک میں امن، سلامتی اور استحکام قائم فرما۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم وبارك على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.

ہفتہ، 12 محرم 1448ھ، مطابق 27 جون 2026ء

مجلسِ عاملہ
عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز

Website |  + posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

100%