البحث

التفاصيل

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے علماء کرام اور مفتیان عظان کا متفقہ فتویٰ.

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے علماء کرام اور مفتیان عظان کا متفقہ فتویٰ. 

جاری کردہ انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز، اجتہاد اور فتویٰ کمیٹی ۔

اجراء کی تاریخ :.6 ربیع الثانی ، 1445، مطابق 21 اکتوبر 2023 بروز ہفتہ ۔

 

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الحمدللہ رب العالمین. 

 ہر قسم کی تعریف و ثنا ہے اللہ کے لیےجو مجاہدین کا حامی، مظلوموں کا مددگار اور غاصب اور ناجائز قابضوں کو ذلیل کرنے والا ہے، اور ہم خاتم المرسلین، حبیب رب العالمین محمد صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے تمام اہل وعیال اور صحابہ پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔امابعد:

 

انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کی اجتہاد اور فتویٰ کمیٹی غزہ کی سرزمین میں جو کچھ ہو رہا ہے اور قابض دشمن کی طرف سے عام شہریوں کے قتل عام کرنے ، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے، گھروں، مساجد، گرجا گھروں اور ہسپتالوں کو مسمار کرنے اور اس کے علاوہ اسرائیل جو کچھ جرائم کر رہا ہے، اس پر گہری نظر رکھے ہوئی ہے۔

 اسی طرح قابض اسرائیل غزہ کی پٹی میں پانی، بجلی اور توانائی کو منقطع کرنے اورضروریات زندگی کو غزہ کے عوام تک پہنچنے  سے روکنے کے لیے جو کچھ کر رہاہے... نیز ان کو نیست و نابود کرنے  اور ان کو مٹانے کی اسرائیل جو سازشیں کر رہا ہے ، اس سلسلے میں سے جو عالمی خاموشی چھائی ہوئی ہے یہ صورت حال ہر صاحبِ ضمیر کے لیے شرمناک ہے، اور غزہ کی غیر منصفانہ جنگ میں بہت سے مغربی ممالک کی اسرائیل کے ساتھ واضح حمایت بھی سخت افسوس ناک ہے .. 

لہذا اس بڑی قومی آفت اور موجودہ بڑی مصیبت کے مد نظر ، اتحادِ عالمی کی اجتہاد اور فتویٰ کمیٹی تمام مسلمانوں (چاہے وہ حکمران ہوں یا تنظیم یا افراد) کے سامنے اسلامی حقائق  اور شرعی فرائض کو واضح کرنا ضروری خیال کرتی ہے؛ تاکہ حق واضح طور پر سامنے آسکے اور اپنے فرض کی تکمیل بھی ہوسکے ، اور ان مظلوموں کی حمایت بھی ہو، جن پر ظالم حملہ آور ہے اور اس سلسلے میں میں ہر قسم کے اشتباہ کا خاتمہ ہو سکے، کچھ لوگوں کی بے بصیرت  باتوں نے اس حوالے سے کئی اشتباہ کو پیدا کردیا ہے. 

 مذکورہ امور کے پس منظر میں اتفاق رائے سے مندرجہ ذیل فتویٰ جاری کیا جاتا ہے: 

 

اول - غزہ اور فلسطین کے باشندگان جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ ایک شرعی جہاد ہے. یہ جہاد ان پر فرض ہے۔ اس لیے کہ ان کی سرزمین کو آزاد کرانا جس پر غاصب صہیونیوں نے قبضہ کر رکھا ہے ،ایک دینی فریضہ ہے. 1948ء سے پہلے اسرائیلی ریاست کا کوئی وجود نہیں تھا،بعد میں انھوں نے ارض فلسطین پر زبردستی قبضہ کر لیا. 

اہل فلسطین پر شرعی فریضہ ہے کہ وہ اسلام کی اس سرزمین پر سے اسرائیل کے قبضے کو ختم کر دیں، اور امت مسلمہ میں اہل فلسطین ہی اس حکم کے سب سے پہلے مخاطب ہیں، پھر مرحلہ وار دوسروں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے. اتحادِ عالمی کی اجتہاد و فتویٰ کمیٹی اس سلسلے میں عالم اسلام کے دیگر اداروں سے جاری شدہ فتاویٰ کی تائید توثیق کرتی ہے. 

مثلاً : الازہر کے علماء کے فتاویٰ ، اردن کے دائرۃ الافتاء کا فتویٰ  اور دیگر اداروں کے فتاویٰ ۔

اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مجاہدین کی نصرت اور فتح کی بشارت دی ہے. 

مثلاً مسنداحمد بن حنبل کی روایت ہے. حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين، على من يغزوهم قاهرين، لا يضرهم من ناوأهم، حتى يأتي أمر الله، وهم كذلك. قيل: يا رسول الله، وأين هم:" قال: " ببيت المقدس، وأكناف بيت المقدس".

 یعنی "میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا،  حملہ آور ہونے والوں پر غالب رہے گا، انھیں مغلوب کرے گا، اور جو ان کی مخالفت کریں گے وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔" یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے گا اور وہ اسی طرح جہاد کررہے ہوں گے ، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! مجاہدین کی یہ جماعت  کہاں ہوگی ؟

آپ نے فرمایا: بیت المقدس میں اور بیت المقدس کے مضافات میں۔

 

دوم : اہل غزہ اور فلسطین کی حمایت اہل اسلام، مرد و عورت، جوان اور بوڑھے، حکمرانوں اور محکوم عوام، سب پر ہر ایک کی  حیثیت اور استطاعت کے مطابق دینی فریضہ ہے۔ اسلامی اخوت کی بنیاد پر، ناانصافی کو دور کرنا، اورجان، مال، تقریر، مظاہرے، سیاسی موقف یا دیگر ذرائع سے، ہر ممکن طریقے سے؛ حق کی حمایت، لازم ہے. 

اللہ تعالیٰ کے ارشاد ہے :

{انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [التوبة: 41].

: { نکلو ہلکے یا بھاری اور اپنے مال اور جان سے راہ خدا میں جہاد کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانتے ہو} 

 

سوم : شرعی حکم یہ ہے کہ جو ظلم کی اور ظالموں کی مدد کرتا ہے وہ خود بھی ظالم ہے اور جو حق کی مدد کرتا ہے اسے اللہ کی طرف سے اجر ملتا ہے۔دنیا پر یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ متعدد مغربی ممالک غاصب صیہونی حکومت کی مالی اور فوجی طاقت اور انٹیلیجنس اور لاجسٹک مدد کررہے ہیں۔ وہ سب اہل فلسطین کے خلاف جارحیت، ناانصافی اور گناہ میں برابر کے شریک ہیں، اس لیے  مسلمانوں پر فرض ہے،  کہ وہ آپس میں متحد ہو کر اور اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک ایسا فوجی اتحاد بنائیں؛ 

 جو خطے کے امن و سلامتی کو محفوظ رکھے اور اس سے ظلم و جارحیت کو دور کرے تاکہ فتنہ وفساد اور قتل غارت گری کے مواقع ظالموں کو نہ ملیں. جب یہ ظالم وسفاک قوتیں  ایک دوسرے کا ساتھ دے رہی ہیں؛ تو ملت اسلامیہ پر مظلوموں کی حمایت اور مدد کرنا شریعت اسلامیہ کی رو سے مزید لازمی ہوجاتا ہے،  اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ ‌فِتْنَةٌ ‌فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ﴾ [الأنفال: 73]  "اور کافر ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ اور بڑا فساد ہو گا۔" [الانفال: 73۔ ]. ] 

 

چہارم : شریعتِ اسلامیہ  میں یہ بات واضح اور مشہور ہے کہ زکوٰۃ کے مصارف کی آٹھ قسمیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:

﴿‌إِنَّمَا ‌الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ [التوبة: 60] "

زکوٰۃ صرف فقیروں اور بالکل محتاجوں اور زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر کئے ہوئے لوگوں اور ان کیلئے ہے جن کے دلوں میں اسلام کی الفت ڈالی جائے اور غلام آزاد کرانے میں اور قرضداروں کیلئے اور اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے جانے والوں ) اور مسافر کے لئے ہے۔ یہ اللہ کامقرر کیا ہوا حکم ہے اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے... 

اس آیت کریمہ میں ایک مصرف "فی سبیل اللہ" بھی ہے. اس کا مفہوم اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو زکوۃ کی رقم دینا ہے ،. آج" غزہ" کے لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اللہ کے لیے جہاد ہے، اور بالیقین وہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں، لہٰذا امت کے جن افراد پر زکوۃ فرض ہے اور وہ زکوۃ ادا کرنا چاہتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اپنی زکوۃ کی رقوم غزہ کے مجاہدین کو ادا کریں، اپنی زکوۃ کی رقم سے مجاہدین فلسطین کا تعاون کریں. 

بہت سے فقہاء کا یہ خیال ہے کہ مسلمانوں پر پیش آنے والی کسی ناگہانی آفت یا فوری ملی قومی ضرورت کی وجہ سے  زکوٰۃ کی رقم کی پیشگی ادائیگی بھی درست ہے۔ ، اور انہوں نے اس کے ثبوت کے طور پر یہ روایت پیش کی ہے جو سنن خمسہ (الا النسائی) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سند  روایت کی ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا زکوٰۃ واجب ہونے سے قبل وہ پیشگی زکوٰۃ ادا کر سکتے ہیں ، چنانچہ آپ نے انہیں پیشگی زکوۃ ادا کرنے کی اجازت دے دی، صحیح روایات سے  ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو سال کی زکوٰۃ وصول کی ۔

 

مندرجہ بالا کے علاوہ، غزہ کے مجاہدین کئی دیگر مصارف کے مصداق ہونے کی وجہ سے سے بھی وہ زکوۃ کے مستحق ہیں جن میں غریبوں، محتاجوں، قرض داروں اور راہگیروں کا مصرف بھی شامل ہے ۔

 

یہ ساری تفصیلات زکوۃ کی رقم سے مجاہدین کی مدد سے متعلق ہے... لیکن اتنا ہی کافی نہیں ہے،  زکوٰۃ کے علاوہ دیگر اموال سے بھی غزہ اور فلسطین کے لوگوں کی مدد کرنا ضروری ہے. 

جو کہ جہاد بالمال کی ایک قسم ہے، اور یہ اللہ تعالٰی کے ساتھ بہترین تجارت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (١٠) تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‌بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ [الصف: 10-11] .

"اے ایمان والو کیا میں بتادوں وہ تجارت جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے. ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو. وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی اور پاکیزہ محلوں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں. یہی بڑی کامیابی ہے. 

 

امام ترمذی نے مرفوعاً اور موقوفا بہت سے  صحابہ مثلاً :حضرت عمر، حضرت علی، حضرت حسن، حضرت عائشہ، اور دیگر صحابہ و تابعین سے روایت کی ہے کہ : "مال میں زکوٰۃ کے علاوہ  بھی حق ہے۔ " الجوینی نے الغیاثی(  278) میں لکھا ہے : " مختلف قومی آفت اور قحط کے دوران ضرورت مندوں کی مشکلات کو پورا کرنا فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہے۔اس سلسلے میں میں کسی اختلاف کے بارے میں نہیں جانتا "

 

پنجم: - غزہ میں اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت ہر مسلمان پر فرض ہے، حمایت اور تعاون  میں سے ایک اہم ترین تعاون یہ ہے کہ : میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ان کی حمایت کی جائے ، ہر ہر لفظ،ہر ہر رپورٹ یا دستاویز کو ان کا حقِ دفاع کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، موجودہ دور پراپیگنڈا وار کا بھی ہے،لازم ہے کہ ہم حق کو پوری قوت سے ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوری دنیا میں رکھیں ، اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے، جسے امام مسلم اور امام ابوداؤد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، فرماتی ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دفاع کروگے روح القدس کے ذریعہ اللہ تمہاری مدد کرتا رہے گا۔ 

امام نسائی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں سے اپنے مال، اپنی جان اور اپنی زبانوں سے جہاد کرو۔

اس سے واضح ہوگیا کہ الفاظ، کلمات، مضامین مقالات، بیان تقریر کے ذریعہ جہاد کرنا بھی ایک شرعی فریضہ ہے۔

 

ششم - آج کے حالات میں عرب اور مسلم حکمرانوں کا شرعی فرض یہ ہے کہ وہ غزہ میں اپنے بھائیوں کی ہر قسم کی فوجی، مالی اور سفارتی قوت اور ایک سخت اور واضح

 سیاسی موقف کے ساتھ حمایت کریں، عرب اور مسلم حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ بھی صہیونی دشمن کا مکمل بائیکاٹ کریں اور انھیں سیاسی اور معاشی طور پر یکا تنہا کردیں. جیسا کہ بعض مغربی ممالک قابض صہیونی حکومت کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔ 

 حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے خدا کے لیے لڑنے والے کو تیار کیا اس نے جنگ کی اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے لڑنے والوں کے اہل و عیال کی نگہداشت اور خبر گیری کی اس نے بھی جہاد کیا. (متفق علیہ)

 مجاہدین کو رسد کمک پہنچانے میں رکاوٹ بننا، ان کے لیے امداد کو پہنچنے سے روکنا یا اپنے مریضوں کو علاج سے روکنایہ سب  حرام ہے، یہ عمل اسلام سے غداری اور اللہ کے دشمنوں، جارحین اور اسلام کی سرزمین پر قبضہ کرنے والوں کے ساتھ وفاداری اور حمایت ہے ۔

 

ہفتم : -اتحادِ عالمی کی اجتہاد و فتاوی کمیٹی یہ فتویٰ جاری کرتی ہے کہ غاصب صہیونی ادارے کے ساتھ اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں نارمل تعلقات استوار کرنے کی  شرعاً ممانعت  ہے. غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں کسی بھی طرح سے ان کی حمایت اور تعاون کی شرعاً ممنوع ہے،  وہ  ممالک جنھوں نے اسرائیل کے ساتھ نارمل تعلقات استوار کررکھے ہیں ان ممالک کا فرض ہے کہ وہ مظلوموں کی مدد کرنے کے لیے قابض حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو منقطع کر لیں ۔

  مسلمانوں کے خلاف کفار سے ان کی دوستی اور مدد  کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿‌تَرَى ‌كَثِيرًا مِنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنْفُسُهُمْ أَنْ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ (٨٠) وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾ [المائدة: 80-81] 

ان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں کیا ہی بُری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی. یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے. اور اگر وہ ایمان لاتےاللہ اور  نبی پر اور اس پر جوان کی طرف اترا؛ تو کافروں سے دوستی نہ کرتے مگر ان میں تو بہتیرے(اکثر) فاسق ہیں. 

 

ہشتم :- مسلمانوں، حکمرانوں اور عوام کو چاہیے کہ وہ صہیونی وجود اور غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف  جنگ میں اسرائیلی کی حمایت اور مدد کرنے والوں کا بائیکاٹ کریں۔ان کا معاشی، ثقافتی اور علمی ہر سطح پر بائیکاٹ کریں۔ شریعت کے مطابق ہر قسم کا بائیکاٹ واجب ہے۔

  یہ جواب ہوگا اسرائیل کی جانب سے جارحانہ حملوں بالخصوص غزہ کی عمارتوں، مساجد اور اسپتالوں پر بمباری اور جان بوجھ کر عام شہریوں کو شہید کرنے کا ، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ بائیکاٹ کا جواز؛ صحیح البخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ثابت ہے: "ثمامہ بن اثال کو اسلام لانے کے بعد کہا گیا: 'صبوت؟'کیا تم بددین ہوگئے. 

انہوں نے کہا: 'نہیں، لیکن میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا ہے ، اور ، خدا کی قسم یمامہ سے تم لوگوں کے  پاس غلہ کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا۔' جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت نہ دے دیں. اس سے معاشی اور دیگر بائیکاٹ کے جواز کی نشاندہی ہوتی ہے۔

 

نہم :- اجتہاد و فتویٰ کمیٹی روئے زمیں کے تمام مسلمانوں کو  نمازوں میں اور اجتماعی اور انفرادی دعاؤں میں قنوت نازلہ کے اہتمام کی تلقین کرتی ہے. قنوت نازلہ میں اور عمومی دعاؤں میں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجاہدین کو فتح عطا فرمائے اور غاصبوں کو نیست و نابود کرے۔ قنوت نازلہ کے مستحب ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو بخاری، مسلم اور سنن کی کتابوں میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک قنوت پڑھنے کا اہتمام فرمایا: یہ وہ موقع تھا جب قراء صحابہ بڑی تعداد میں دشمنوں کے حملے میں شہید کردیئے گئے ، 

میں نے رسول اللہ کو اس سے زیادہ غمگین کبھی نہیں دیکھا ۔ 

 

 دشمنوں کے خلاف آپ کی دعا میں جن چیزوں کا تذکرہ کیا گیا ان میں سے ایک وہ دعا ہے جو سنن ابوداؤد میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  بعض ان مواقع پر  جن میں آپ کا دشمن سے سامنا ہوا، فرمایا : اللهم منزل الكتاب، ومجري السحاب، وهازم الأحزاب، اهزمهم وانصرنا عليهم" :  اے کتاب کے نازل کرنے والے، بادلوں کو حرکت دینے والے اور مختلف لشکروں کو شکست دینے والے، دشمنوں کو شکست دے اور ہمیں ان پر فتح عطا فرما ۔  " سنن ابوداؤد میں یہ دعا بھی ہے: "

:" اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم".اے اللہ ہم تجھ ہی کو ان کے مقابلہ میں کرتے ہیں.  ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔" مسلمان اپنی مساجد میں مستقل قنوت نازلہ پڑھتے رہیں. یہاں تک کہ اللہ مظلوموں کو فتح عطا فرمائے. اور ان کی مصیبت کو دور فرمادے. 

 

دہم : اجتہاد و فتویٰ کمیٹی غزہ کے لوگوں کو زبردستی ان کی زمینوں باہر نکالنے اور انھیں اپنے گھروں سے جبراً بے گھر کرنے خلاف متنبہ کرتی ہے۔کمیٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ اسلامی قانون اور بین الاقوامی قوانین اور مختلف کنونشنز اور معاہدات کی روشنی میں ایک بڑا جرم ہے اور اس گھناؤنے جرم میں شریک ہونا ممنوع ہے۔ کسی بھی شکل میں اور کسی بھی جھنڈے تلے اس مذموم سازش کا مقابلہ کرنا اسلامی ممالک اور حکمرانوں کا شرعی فرض ہے، اگر وہ ناکام ہوئے تو ذمہ داری، وجواب دہی انھیں کی ہوگی ہے۔

 

کمیٹی کا خیال ہے کہ غزہ کے لوگوں کو اپنے وطن چھوڑ کر نکلنے کے مطالبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اپنے وطن میں رہنے کے موقف پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔

 

یازدہم : - اجتہاد و فتویٰ کمیٹی علماء پر مشتمل ان اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے غزہ میں ہمارے بھائیوں کی مدد کے لیے اپنا شرعی فریضہ ادا کیا، خاص طور پر الازہر الشریف کا اس کے باوقار مضبوط موقف پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ 

اور دیگر علمی وفکری ادارے اور تنظیموں سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں.  اور عوام اور حکمرانوں کی طرف سے فلسطین کے کاز کی حمایت میں جنھوں نے بھی حصہ لیا، اور حمایت کی.ہم  حمایت کرنے والے ہر فرد کا شکریہ ادا کرتے ہیں. اس موقع پر  ہم آزادی پسند ، ان غیر مسلم عوام کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، جو زندہ ضمیروں میں سے ہیں ۔ اور دنیا کے آزاد لوگوں کے صیہونی مخالف موقف کو سراہتے ہیں جن میں اعتدال پسند یہودی بھی شامل ہیں، جنہوں نے غزہ کے عوام پر ہونے والی وحشیانہ جارحیت پر اپنے ردعمل اور برہمی کا اظہار کیا۔

 

ہم اللہ تعالیٰ سے غزہ کے مظلوموں کی مدد و نصرت، ان کے دشمن کو شکست دینے، ان کے پاؤں تلے کی زمین ہلانے اور غاصب صیہونیوں کے ہاتھوں پورے فلسطین کو آزاد کرانے کے لیے دعا گو ہیں۔ آمین

 

انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کی اجتہاد اور فتویٰ کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ

 


: الأوسمة



التالي
رسالة مفتوحة إلى بابا الفاتيكان البابا فرنسيس بشأن الإبادة الجماعية في غزة وفلسطين

البحث في الموقع

فروع الاتحاد


عرض الفروع